بنگلورو،22/دسمبر (ایس او نیوز) سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان نے کہا کہ شہریت قانون اور این آر سی کے ذریعہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جاہی ہے- انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت اس ملک کے باشندوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے دستاویزات پیش کرنے کے لئے کہا جارہا ہے- دستاویزات بھی خود ان شہریوں کے نہیں بلکہ ان کے باپ دادا، کے طلب کئے جائیں گے- انہوں نے کہا کہ عام شہری کس طرح اتنی پرانی دستاویزات پیش کر سکیں گے-انہوں نے کہا کہ خود ان کے پاس ان کا اپنا برتھ سرٹی فکیٹ نہیں ہے- انہوں نے سوال کیا کہ اگر مجھے اپنی پیدائش کی تاریخ سے متعلق سرٹی فکیٹ دینا ہو تو میں کہاں سے سرٹی فکیٹ لاؤں گا- انہوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم کے علاوہ این آر سی سے کوئی اور فائدہ نہیں ہوگا- انہوں نے کہا کہ صدیوں سے اسی ملک میں ہندو اورمسلمان آپسی محبت اور بھائی چارہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے آرہے ہیں - شہریت قانون اور این آر سی سے دونوں کے درمیان تفرقہ پیدا کیا جارہا ہے- انہوں نے کہا ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ جھگڑا پیدا کرنے والوں کو ملک کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے- انہوں نے کہا کہ دل کے آپریشن اور اپنی صحت ناساز ہونے کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ منگلور کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے نکل پڑے ہیں - منگلور میں شہریت قانون کے خلاف 2معصوم افراد پولیس کی گولی کا شکار ہوگئے- سدارامیا اپنی صحت کی پروا کئے بغیر منگلورو کیلئے روانہ ہوئے- ضمیر احمد خان نے کہا کہ سدارامیا کے اس اقدام کی ستائش کی جانی چاہئے ملک کے اتحاد کے لئے جدوجہد کرنے والے سدارامیا جیسے لیڈر اس ملک میں بہت کم رہ گئے ہیں -